ہنستی خود ہی روتی تھی ،
ہواؤں سے لڑتی ،
جھرنوں سی بہتی تھی ،
کوئی تارہ جو ٹوٹتا ،
اک ٹک تکا کرتی تھی ،
دل میں کیا تھا اس کے نجانے ،
شام کے ڈھلتے تنہا بیٹھا کرتی تھی ،
اوس کی مانند ، سورج کے ابھرتے ،
اسکی چمک روشنی بکھیرا کرتی تھی ،
وہ لڑکی ،
گہرا سکوت اوڑھے ،
کسی اجڑے گھونسلے کا تنہا مسافر لگتی تھی ،
آخری تنکا سمیٹے ، آباد شجر کی امید رکھتی تھی ،
کوئی گر کے نہ ٹوٹے ،
رستوں پہ دیپ جلاے ، رہبر بنا کرتی تھی ،
اک لڑکی ،
چپ چاپ مگن رہا کرتی تھی !
Advertisement
10 Comments
Comments RSS TrackBack Identifier URI






بہت خوب =)
aww, how adorable, but somehow its sad.
ur posts ‘mostly’ make me sad
It’s the way how you take them…
as always
u bring feelings out pf ur words incredible
jitni tareef utni kam hai
One word: Beautiful
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔