Happy New Year 2016!


World is celebrating New Year. They dance, party and enjoy every moment of life.

World is thinking of controlling global warming, cut down poverty by encouraging charity, donations and volunteering. This has been happening all around the well developed countries of world.

If we look at Pakistan, unbelievable situation. Corruption, law & order situation, calamities, and violence. Cheery on top, our media is promoting dramas full of unethical, immoral and unislamic norms. Where we should think of controlling poverty, inflation and improving living conditions, we are promoting Saas Bahu, Nand Bhabi, Husband Wife fights, their domestic politics and breaking relations.

On the other side, we have been seeing shows reflecting patience, humanity, healing and justice.

I hope we see good change in New Year.

Happy New Year

Happy-New-Year-2016-Whatsapp-Video-Messages-Images-Quotes

عمر ے رواں


اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں سوچا تھا،
شب کے بعد اجالا ہوگا،
اجالے میں نکھرا کھلا آسماں ہوگا،
کچھ برکھا چھا یے گی ، قوس و قزاح بکھرے گی،
ہر رنگ زندگی کا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کچھ دھیما ہوگا ،
جب چاند جوبن پہ ہوگا،
اک ٹھنڈک کا حالا ہوگا،
کچھ ایسا ہوگا، کچھ ایسا ہوتا تو، کچھ اور ہی سما ہوتا ،
اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں نہ ہوا،
کبھی سوچا نہ تھا جو وہ ہوگا،
رات کی سیاہی کے ڈھلنے کا انتظار ناتمام ہوا ،
نہ کوئی بدلی چھا یئ ، نہ برکھا بھایی ،
وقت نے ساتھ کچھ یوں چھو ڑا ،
دن سے رات اور رات سے دن تک بس ایک ہی پھیرا ،
مہینوں نہیں سالوں تک محیط ہوا،
آج پھر سے دسمبر آیا ہے ،
عمر بیت گیی،
کچھ تو تو نے تھم کر سوچا ہوگا ؛ اے عمر ے رواں ،
رات کی سیاہی سے کوئی جگنو میرے حصّے کا چرایا ہوگا،
بیتے سالوں بیتے لمحوں کا ایک خوبصورت لمس ، میرے حصّے میں آیا ہوگا،
ایسا کبھی تو سوچا ہوگا،
اک بار ہی سہی،
کبھی تو میرا خیال آیا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کاش یوں ہوا ہوتا،
کوئی جگنو میرا بھی ساتھی ہوتا،
کاش ہر لمحہ تنہا نہ ہوتا،
تو،
آج میں اتنا تھکا نہ ہوتا،
اے عمر ے رواں ؛ آج تیرے بیت جانے کا غم نہ ہوتا،
ایک اور دسمبر تمام ہونے کا ملال نہ ہوتا!

Do I care?


I don’t know how people enjoy making fun of others or mocking them. I can’t pretend to be fake and join them in disrespecting others and that’s what making me aloof. Because I have no gossips to share and no reason to laugh at others.

I can’t handle disrespect and humiliation. I can’t stand injustice and that’s making me different; different in a way that I am drifting away everyone from me.

People come to talk to me only when they need me for some work. I am known as Workaholic person and people use me for only work otherwise I am no one in their life and they forget me in space of their life when they have fun when they enjoy. But; Do I really care?

 

آخری دوست


اتنی خاموش کیوں ہو؟
……………………………
کچھ کہتی کیوں نہیں، اتنی خاموش کیوں ہو؟
ہاں ! نہیں تو.
چلو اٹھو اندر چلو ، یہاں ٹھنڈ بڑھ گیی ہے.
ہاں چلو….
…………………………………………………….
…………………………………………………………..
…………………………………………………………………..
تو آج میرا آخری دوست بھی چلا گیا. ایک تم ہی تو رہ گئے تھے جس سے میں بات کر لیا کرتی تھی کچھ دل ہی بہل جاتا تھا . ورنہ تو سناٹا اتنا ہے کہ کچھ بھی سنایی نہیں دیتا.
آج سناٹا کچھ اور بڑھ گیا ہے .
کیا ہوا سو کیوں نہیں رہی ؟
سو ہی تو رہی ہوں .
اچھا؛ آنکھیں کھول کر کون سوتا ہے……
……………………………………………………
وہ بھی تو چلا گیا تھا. کچھ بھی سوچے بغیر . ایک بار بھی تو نہیں سوچا تھا اسنے جانے سے پہلے …..
پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب ساتھی چلے گئے . وقت آگے بڑھ گیا پر میرا وقت وہیں رک گیا تھا. تب وقت تھمنے کی بہت تکلیف سہی تھی.
اب تکلیف بھی نہیں ہوتی. اسی لئے تو آج اس کے جانے پہ دل بلکل خاموش ہے . کوئی صدا کوئی فریاد نہیں.
آج سناٹا اتنا بڑھ گیا ہے کہ اپنی ذات سے بھی کوئی الفت نہیں رہی !

اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب


اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی ،دل پر
زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب
خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر
آج کی شب
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب
کم نظر دیکھ ہوا کی آہٹ
کس کی خوشبو میں بسی آتی ہے
کون سا عکس ہے جس کی خاطر
آنکھ آئینہ بنی جاتی ہے!
کس طرح چاند اچانک جھک کر
سرد شاخوں سے لپٹ جاتا ہے
کس طرح رنگِ چمن
ایک چہرے میں سمٹ جاتا ہے
سیلِ امواجِ تمنّا کیسے
ساحلِ دل سے پلٹ جاتا ہے
اور کس طور سے طے ہوتا ہے
لڑکھڑاتے ہوئے تاروں کا سفر آج کی شب
بے ہنر! آج کی شب
مجھ کو جی بھر کے اُسے یاد تو کر لینے دے
دولت ِ درد سہی جیب تو بھر لینے دے!!

(امجد اسلام امجد)

مرد کی محبّت


محبّت !

محبّت صرف عورت کرتی ہے ، اپنا سب کچھ ایک شخص کے نام کر کے . عورت کی محبّت اسے ایک وجود کے گرد محصور کر دیتی ہے. وہ صرف اسی شخص کو سوچتی ہے اور اسی کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہے. اسے باقی دنیا سے غرض نہیں ہوتی، وہ اپنی انا کو خود اپنے ہی پیروں تلے روند کر صرف اپنی محبّت کو پوجتی ہے.

مرد؛ مرد کسی عورت سے محبّت نہیں کرتا. وہ صرف اپنی آنا اپنی ذات سے محبّت کرتا ہے. اسے عورت اپنے قدموں میں جھکی ہوئی چاہیے. وو خود کو خدا بنا لیتا ہے اور چاہتا ہے عورت اسے بلا کسی عذر کے پوجتی رہے. مرد صرف حاصل کرنا چاہتا ہے. اور جو عورت اسے بغیر کسی تگ و دو کے مل جائے وہ اسے ٹھکرا کر اگے چل دیتا ہے. اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کے وہ عورت اسکی محبّت میں خود کو بھلا کر صرف اس کے لئے اپنا آپ بدلنے کو تیار ہو گیی ہے. وہ عورت کے چہرے پہ لکھی تحریر نہیں پڑھ سکتا. مرد جسے حاصل کر لے اسے توڑ دیتا ہے. اور یہی اسکی انا کی تسکین ہوتی ہے.

مرد عورت کو ٹھوکر مار کر چل دیتا ہے اور عورت تمام عمر ایک وصل لاحاصل میں سرگرداں رہتی ہے. اسکی انا اور خوداری اسکی محبّت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے. پھر تمام عمر وہ ٹھکراے جانے کی اذیت سہتی ہے اور خود کو بہلاتی رہتی ہے.

مرد کبھی محبّت نہیں کرتا . مرد اپنی انا کہ حصار میں قید رہتا ہے. اسے عورت کی محبّت کی نہیں اپنی جیت سے لگاو ہوتا ہے!

مرد کی محبّت ایک سراب کی مانند ہے اور سراب کبھی حقیقت نہیں بنتا!

Inspiration from Ashfaq Ahmed!

From the page of Mustansar Hussain Tarar


اسنے کہا کہ کونسا تحفہ ہے من پسند

میں نے کہا وہ شام جو اب تک ادھار ہے !