بابا کی رانی


میں اپنے بابا کی رانی ،
مہکا آنگن ، رت تھی سہانی ،
نیلا امبر اجلا ایسا،  کبھی نہ  برسا اکھیوں سے پانی ،
ہنسی تھی ایسی، رکی نہ کبھی ،
آنسوں کی سنی تھی کبھی نہ کہانی ،
سنا تھا ایسا ،
وقت رکا ہے کبھی ؛
 روٹھی ہنسی ،
بس ؛
رہ گیا؛ آنکھوں میں پانی ،
ہنستے چہرے ، کھلکھلا ہٹیں ہر سو ،
نہ لوٹا سکا ،
وقت دل کی چاندنی ،
کسے سناؤں اس شہزادی  کی کہانی ،
تھی ،
جو اپنے بابا کی رانی!
Advertisements

میری ذات


گر مجھہ کو ملے یہ آسرا،
کہ ؛
میں تجھہ کو بتاؤں دل کھول کے ،
یہ دنیا نہیں انمول ،
کہ ؛
تو خود کو کرے  بے مول یہاں !