I Want ……


Don’t know why I am getting down day by day, I am tired, more than tired……I want some closed one like an angel to drain out my frustration. But I don’t trust any or Life never brought any to be trusted….

I want to sit on the top of the hill under the shade of tree on the lush green grass and open armed to feel the breeze with closed eyes….. ALONE, PEACE & SILENCE.

I want to go on long drive in dark night of full moon on long dark black road………..ALONE, PEACE & SILENCE.

I want to listen and play VIOLIN, I wanted to learn playing Violin but I couldn’t.

I always loved Fighters, fly high in the Air but couldn’t join Air force.

I always wanted to be a part of Army but Life took me to other side.

I always loved horses and wanted to learn horse riding and owe Arabic horse but wish remained wish.

I wanted to be Computer Engineer but where I am now.

I wanted to bring change, change my Life, change the world but World broke me.

I always trusted people but now I can’t trust any.

I always loved relations, family, relatives but then I learnt how Blood changes to White.

I never wanted to be appreciated but to be treated as HUMAN not Commodity but ……

I am always thankful to Allah because I am enjoying so many things Mashallah which others don’t have. I Am blessed Alhamdolillah.

I broke my all dreams by myself, crushed them like pieces and threw them out of mind like splinters.

I don’t care and I damn care. Life is moving on, so do I because now I blindly believe that Allah’s plans are far better than ours.

Advertisements

Trance……..!


I am again into the phase through which I passed an year ago. Loud beat and noise around. Things are getting blurred around, moving into TRANCE.
Want to be free of everything without any Tie and Bound.
I am getting LOUDER once again………..!!!!!!!!!
TO HELL WITH EVERYTHING INCLUDING MYSELF.

EP…………

DJ Tiesto……….JUST BE,……..

دھوپ میں بارش


میں نے اس سے پوچھا ،

کیا دھوپ میں بارش ہوتی ہے ،

یہ سن کر وہ ہنسنے لگی ،

اور ہنستے ہنستے رونے لگی ،

پھر دھوپ میں بارش ہونے لگی !

اسیرے محبّت


پلٹ ؛
پلٹ ! بند کرو ، کیا دیکھتی رہتی ہو .
دیکھنے دو نہ ، کتنی اچھی فلم چل رہی تھی .
فلمیں دیکھ دیکھ کر تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ، بند کرو اور چل کر میرے ساتھ کام کرواؤ . پورا گھر گندا ہو رہا ہے ، معلوم ہے کتنی تیز آندھی تھی رات کو ؟
ہاں ہاں معلوم ہے ، بس تم یہ جھاڑ پونچھ ہی کرتی رہنا ساری عمر.
اب اٹھ بھی چکو !
آ رہی ہوں ، چلو . منہ میں بڑبڑاتی وہ اس کے پیچھے چل دی !

ارے ارے سنو سنو ؛ افھو اب بول بھی دو کیا قیامت آ گیئ اب ؟
قیامت ہی تو دیکھ کر آ رہی ہوں ، ابھی ابھی روڈ پار کرتے ہووے ایک کار کے نیچے آتے آتے بچ گیئ .
یا الله ؛ دیکھ کر کیوں نہیں چلتی .
تم سنو تو ، اب نصیحتیں نہ شروع کر دینا . کار میں بیٹھا ہوا بندہ ہی اتنا سمارٹ تھا کے …. بس بس ، معلوم ہے تم اسے دیکھتے ہووے سڑک پار کر رہی تھی اور اس کی کار کے نیچے آتے آتے بچ گیئ . سنو ؛ یہ ایک ہی دفع کیوں نہیں مر جاتی تم ، جان چھوٹے گی تمہارے روز روز کے قصّوں سے .
اب گھور کیوں رہی ہو ، چلو کلاسس کا وقت ہو گیا ہے !
جی تو کرتا ہے یہ کتابیں تمہارے سر پہ دے ماروں … مار لینا پر ابھی چلو !

اس کے قدموں کی چاپ انھے اس کی آمد کا پتا دے دیتی ؛
اسے دیکھتے ہووے مسکراے ؛ آو آو آج دیر ہو گیئ آنے میں ؟
جی ؛ بس نہیں مل رہی تھی پر آنا تو تھا سو آ گیئ .
کیوں مشقت میں ڈالتی ہو خود کو ؟ یہ تمہاری یونیور سٹی کی جماعت تو نہیں جہاں حاضری ضروری ہو .
جانتی ہوں مگر …. وہ خاموش ہو گیئ !
پانی پیو گی ؟ پھر خود ہی کٹورے میں پانی ڈال کر اسے تھما دیا . پی لو ، پیاس بجھ جائے گی .
پانی پی کر کٹورا انھے واپس تھما دیا .
جانتا ہوں کیوں آ یئ ہو ، پر پہلے فیصلہ کر لو . یہ راہ آسان نہیں ہے . دل مارنا پڑے گا ، خود پہ جبر کر لو گی ؟
وہ خاموشی سے انھے تکے گیئ …. جب قدم بڑھا لئے تو اب واپس نہیں جاؤں گی ، بس نشاندہی کر دیں .
“مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آسان ہو گیئں ”
جاؤ میرے جوتے مٹی سے گندے ہو گئے ہیں ، انھے تالاب سے دھو لاؤ.
وو اٹھی اور اس سمت چل دی جہاں جوتے پڑے تھے ، کیچڑ میں لت؛ اسے کیچڑ سے گھن آتی تھی پر انکار کا حوصلہ نہ تھا سو چار وناچار اٹھا کے تالاب کی طرف چل دی . جوتے دھونے کی بعد انھے سکھانے کی غرض سے دھوپ میں رکھا اور واپس ان کے پاس چلی آ یئ .
سر اٹھا کر اسے دیکھا ، اس کے چہرے پہ کوفت کے آثار تھے . وو مسکرا دیے. اب گھر جاؤ.
لیکن …..
یہ تمہارا پہلا سبق تھا ، اسے یاد رکھنا .
سبق ؟ لیکن آج تو آپ نے کچھ سکھایا ہی نہیں .
یہی سبق تھا . دوسرے کے جوتے اٹھانا اور اس پر سے کیچڑ صاف کرنا . زندگی میں جو سبق تم پڑھنا چاہتی ہو ، اس کے لئے پہلے اپنی ذات کی نفی ضروری ہے . اپنی خواھش سے ہٹ کر خود کو زمیں پر لانا ضروری ہے . نفس کی گرد ہٹانا ضروری ہے . اب جاؤ ! اگر اگلے قدم کی خواھش ہو تو لوٹ کر آنا ؛ جاؤ !
وہ خاموشی سے اٹھی اور سیڑھیاں اتر گیئ ؛ شام ہو رہی تھی !

تم نے کبھی کسی سے محبّت کی ہے ؟
کیا ؟
ارے بابا اچھل کیوں رہی ہو ، آسان سا سوال ہے . کبھی کسی سے محبّت کی ہے ؟
نہیں ؛ یہ بیکار کے شوق ہیں !
یا الله ؛ تمہے محبّت بیکار چیز لگتی ہے ؟
چیز جو ہوئی ؛ بیکار ہی ہو گی نا.
اسنے اپنا ماتھا پیٹ لیا . تمہے معلوم ہے ؟ تم اپنی طر ع کا ایک ہی پیس ہو .
جانتی ہوں .
کیسی لڑکی ہو ؟ محبّت پہ یقین نہیں رکھتی .
یہ کب کہا میں نے ؟
تو پھر ؟
محبّت پر یقین رکھتی ہوں لیکن اس طر ع کی نہیں جو تمہے ہو جاتی ہے روز ایک نیئی صورت دیکھ کر . اس کی آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں ، اس کا قد کتنا اونچا ہے . اس کی کار دیکھی تھی اور اس کا سٹائل ……..
اسے گھورتے ہووے بولی تو تمہے کونسی افلاطونی محبّت کا انتظار ہے ؟ کیا تم یہ سب نہیں دیکھو گی ؟
نہیں !
کیا ؟ تو پھر اس کے علاوہ ….
تم نہیں سمجھو گی ، اٹھو گھر چلنا ہے ورنہ پوائنٹ مس ہو جائے گا.
چلو !

چھت کی سیڑھیاں اسکی پسندیدہ جگہ تھیں جہاں سے وہ پھیلے آسمان اور اس پہ سجے تاروں کے بیچ تنہا چاند کو تک سکتی تھی . آج بھی پورے چاند کی رات تھی اور وہ گھٹنوں کے گرد بازو پھیلاے تاروں سے سجی رات میں گم تھی . ہمیشہ سے تنہائی اور رات کا ہمجولی کا ساتھ رہا ہے. یہی تنہائی اسنے اپنے اندر بسا لی تھی، جس کی ہمراہی میں اسے کسی کا ساتھ منظور نہیں تھا. آج تک اسے وہ ہمراز نہیں مل پایا تھا جو اسکی تنہائی کا ساتھی بن پاتا.

تو تو نے ٹھان لیا ہے کہ تو اسی راستے کی مسافر ہے ؟ اس کی آہٹ پاتے ہی وہ بولے…
وہ مسکرا دی !
بیٹھ جا؛ کبھی کسی سے محبّت کی ہے ؟
وہ ساکت انھے تکّے گیئ ….
بول کبھی محبّت کا پانی پیا ہے ؟
نہیں !
جا پھر محبّت کر لے ، جب دل بند ہے تو کھوج کیسے کرے گی . سمندر کی گہرائی ماپنے کے لئے اس کے اندر قدم تو رکھ ! جا ؛ جب اسیر محبّت ہوجا تب آنا!

اسے محبّت ہو گیئ تھی اور وہ جان ہی نہ پا یئ ……..
اس کا ساتھ ، اس کی باتیں ، شکایتیں سب اچھا لگنے لگا تھا اسے . وہ روٹھ جاتا تو ہزار منتیں کر کہ اسے مناتی . وہ جس نے کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی، اسکی ہلکی سی ناراضگی پر گھنٹوں اسے مناتی ، معافیاں مانگتی ، چاہے غلطی اسکی اپنی نا ہو مگر اسکے ماتھے کی شکن اسے گوارہ نہیں تھی . اور وہ کسی سلطنت کے راجہ کی طر ع اس بے دام کی باندی کو اپنے آگے جھکاے رکھتا. اسکی گڑگڑاہٹ اسے اپنے ہونے پہ نازاں کرتی. اپنی بے پناہ چاہ نے اسے غرور کے طلسم قدہ میں قید کر دیا تھا. یہی فخر کافی تھا کہ وہ لڑکی اسے دیوانوں کی مانند پوجتی اور اسکے ہر حکم کو بلا چوں و چران بجا لاتی .
الله کرے تم کسی کی محبّت کی اسیر ہو جاؤ، تب جان پاؤ گی دیوانگی کیا ہوتی ہے ….. یہ آوازیں اس کے کانوں میں گونجتیں پھر بھی وو خود کو بےبس پاتی. میں اس کے سحر سے کبھی خود کو آزاد نہیں کرا پاؤں گی. وہ بےبسی سے سوچتی…

مت جاؤ خدا کے لئے ، مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ! جو کہو گے مانوں گی ، تمہاری کسی بات سے کبھی انکار نہیں کروں گی . تمہے؛ تمہے کیا برا لگا ، میں نے تو تمہاری کسی چاہ سے انکار نہیں کیا ؟
بس ہم ساتھ نہیں رہ سکتے. مجھے تمہاری محبّت پر اعتبار ہے مگر میں اسیری کی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور تمہاری محبّت مجھے قیدی بنا دے گی . یہ میرے لئے محبّت نہیں غلامی ہے اور میں غلامی نہیں کر سکتا .
وہ چلا گیا اور وہ اس کے جاتے قدموں کے نشانوں کو کھوجتی رہ گیئ !

الله ؛ مجھے آزاد کر دو ، اس محبّت سے آزاد کر دو . مجھے میری ذات لوٹا دو، میں اسے دوبارہ کبھی کھونے نہیں دوں گی ، کسی بھی انسان کے لئے نہیں ……
مجھے الله ملا دو ، مجھے الله لا دو . اسکی چاہ لا دو . ایک بار ؛ صرف ایک بار !

کیا سیکھا ؟ ان کے لب ہلے .
وہ انسان کی محبّت سے آزاد ہو گیئ تھی !
اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا دیے . اب تیرا اندر کھل گیا ہے ، اب تو وہ سیکھ سکتی ہے جس کی چاہ تجھے ان سیڑھیوں تک لا یئ ہے . دل میں جھانکنے کا فن جان لے تو کبھی کسی رستے کی تھکاوٹ تجھے لڑکھڑانے نہیں دے گی .
الله اور ولی!
ولی بن جا ، الله خود مل جائے گا .
یا ولی ! یا الله !
اس کے آگے کیا چاہیے ؟ بس راستہ طے کیے جا ، ولی آسان کرے گا !
جا ؛ نشاندہی ہو گیئ ہے . راستہ تونے خود طے کرنا ہے ….
یا الله ! یا ولی !

Ambri (Mother) by Anwar Masood !


I am Crying like Everything…..!

Night !


The dawn glow shines a day
Weather adds glitter in gold,

Ups & downs, Smiles & frowns
Heart without hurt, friar hold,

Day passes, minute by minute, Seconds in moments
Life’s beauty converts into splendor mold,

People around, duties & responsibilities
All in circle, flip a tight string fold,

Emotions, feelings, sentiments
Anger, pity, glee or generosity; one’s ever rolled,

Afternoon heads to evening
Sun tired not occasionally but casual as ages old,

Night;

Tear off cover, take off pretense

Be and by; as oneself actually hold,

With I, my dreams, my eternal, my spiritual crinkle

My world lapses into Me, drift to fuse into my soul

Actions, words, gestures; no more are mine

Spirit totter the inner amusement with volume jolt

I stand by Me; when galaxy behold!

Lost Smile !


Am I born to only PLEASE people and LAUGH on their Knife edged sharp words…???