یاداشت کی بازگشت


اوراق جو پلٹے زندگی کے ،

آج لمحوں کا حساب یاد آیا ،

کچھ الجھے کچھ سمٹے ، وقت کے سحر میں ڈوبے ،

فاصلوں کا طلاطم، ملاپ سے بےفکر ،

ہر سطر پہ رقم، ہر لمحے کی آزمائش ،

اس لمحہ کا بانک پن یاد آیا !

معصومیت سے سرشار ، انسیت کا اصرار،

کڑی دھوپ میں چھاؤں کا احساس ،

محبّت کا سنگ ، پیار کا اعتبار ،

ہمنواں ہم اثر چاہت ،

وہ تمام الفاظ ، وہ ہر لمحہ ،

اس ہر لمحہ کا مسرور پن یاد آیا !

ہر ورق پہ بکھرا ، الفاظ کا خمار ،

اک اک لمحہ کا حساب یاد آیا !

کتاب تھمی ہے ہاتھوں میں ،

پر ؛

لمحوں کا گرداب یاد آیا !

Advertisements

1 Comment

  1. بہت بہت اعلی


Comments RSS TrackBack Identifier URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s