گمان


ضروری ہے کہ ہر انسان مذہب کا پرچار کرتا رہے یا دنیا کو دکھلاے کہ وہ کتنا مذہب پرست ہے . اسے دینی معلومات پر کتنا عبور حاصل ہے . ضروری ہےہر بات کا اقرار زبان سے کیا جائے . کیا مذہب انسان اور خدا کے درمیان دنیا کا عمل دخل ضروری ہے ؟

مجھے خاموشی سے الله سے رابطہ رکھنا زیادہ پسند ہے نہ کہ دنیا کے سامنے حقایات بیان کرتے رہنا کہ مجھے الله سے کتنا لگاؤ ہے ، میری محبّت کس اوج پر ہے ، عشق کی کتنی سرحدیں پار کی ہیں ، حق کی کتنی گردان کی ہے .

ورد کرنا میرا اپنا معمول ہے ، تمہے اس سے کیا ؟ تمہارا کیا لین دین ہے ؟ تم کیوں میری کھوج میں رهتے ہو ؟ کیا تلاشنا ہے تمہے ؟
دور رہو . میری پرکھ الله کے ہاتھ ہے ، تمہاری اجازت کی پابند نہیں .

جو یہاں سے . جاؤ!
میری اوقات میرے اقرار سے ثابت نہیں ہوتی.
چلے جاؤ .

اور وہ خاموشی سے سیڑھیاں اتر گیا ! کوئی گمان باقی جو نہ تھا !

Advertisements

3 Comments

  1. یہ اقتباس کہاں سے لیا گیا؟

  2. brilliant i must say mind blowing keep it up ….. very true …


Comments RSS TrackBack Identifier URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s