میں غریب ہوں


کیوں روتی ہو ؟
پیسے نہیں ہیں اس لئے روتی ہوں .
اس میں رونا کیسا ؟
پیسے نہیں ہوں گے تو روٹی کیسے لوں گی؟ پیٹ کا دوزخ کیسے بھرے گا ؟ جاؤ بیبی ؛ ہمارا کیا پوچھتی ہو ، تمہارے پاس تو سب کچھ ہے ….
تم کیا جانو ! پیسے تو کوئی بھی دے دے گا تمہے … میری طر ح غریب تو نہیں ہو …
غریب ؛ بیبی کیوں مذاق کرتی ہو ….
مذاق نہیں ، سچ ہے .
بیبی سب تو ہے تمہارے پاس … پیسا، کپڑا ، گھر ، رزق ..
پیسا تو تمہے کوئی بھی دے دے گا ، مے بھی دے دوں گی ….
ہاں میرے پاس سب ہے پر میں پھر بھی غریب ہوں ، کیوں کہ میرے پاس وہ نہیں ہے جو تمہارے پاس ہے .
میرے پاس ؟ بیبی میرے پاس کیا ہے ؟ میں تو ….
تمہارے پاس وہ ہے جو میرے پاس نہیں ہے …
کیا بیبی ؟
تمہارے پاس کیا نہیں ہے ؟
میرے پاس ….
میں غریب ہوں ….. ہاں ….
میرے پاس میرا بابا نہیں ہے !

Advertisements

بھول گئے ہم!


جس دن لکھنا بھول گئے ہم ،
اس دن سمجھنا ؛
تمہے پیار کرنا بھول گئے ہم

;تو اب لگتا ہے سچ ،
قلم چلانا بھول گئے ہم ،

کون کہتا ہے ، محبت صدا سانجھی رہتی ہے ،
یونہی بھٹکتے بھٹکتے ، جی بہلانا سیکھ گئے ہم ،

تمہے بھلا کر ؛
زندگی گزارنا سیکھ گئے ہم ،

بیوفائی کا الزام نہ دینا ہمدم ،
تمنے جو ٹھکرایا ؛
اپنا جیوں بانٹنا سیکھ گئے ہم ،

برسوں کی دھول چھانتے چھانتے ،
بےنام ہونا سیکھ گئے ہم،

چاہتا کوئی دل سے یہ چاہت ہی رہی ،
خود کو بےمول، سرعام نیلام کرنا سیکھ گئے ہم،

وہ نہ میرا تھا ، نہ میرا ہے ، نہ میرا ہوگا ،
برسوں بیت گئے ،
کاش ؛
یہ سمجھ گئے ہوتے ہم!

کبھی جو ملیں گے !


آو؛

تمھیں ہم یہیں ملیں گے ،

جہاں چھو ڑا تھا تنہا ، وہیں ملیں گے ،

نشان منزلوں کے مٹتے ہی چلے گئے ،

ساتھ جو ساتھی تھے ، وہ آگے کو بڑھ گئے ،

یہ بستی یہ کوچے ، ویران ہی ملیں گے ،

آو ؛

تمھیں ہم آج بھی ؛

تنہا ہی ملیں گے !

صحرا میں پھوار


ٹیلے پہ تنہا ،
صحرا کا حصہ لگتی تھی ،
کیا جلتے صحرا میں گھنی پھوار دیکھی ہے ،
بنا سوچے بولا کرتی تھی ،
سوچے سوچے کھلکھلاتی تھی ،
پھوار صحرا بگھونے لگتی تھی ،
خزاں میں بہار کھلتی دیکھی ہے ،
یہی موسم ہر پل اوڑھے رکھتی تھی ،
ہتھیلی پہ چہرہ ٹکا ے ٹیلے پہ بیٹھا کرتی تھی !