یاد گزشتہ


آج پھر یوں تیری یاد آئی،
مدت بعد بھولے بھٹکے لمحوں نے میری سوچ گدگدائی،
اور جیسے کھلتے ہی چلے گئے اوراق پرانے ،
ایسی اک بدلی سی چاہی ،
مدھم رقص ہوا یوں کچھ اثرانداز ،
آنکھوں سے جھڑی بہتی ہی چلی آئی ،
لوٹ کر آنے میں مدت لگتی ہے ،
پھر بھی دل چاہا ،
کاش یہ رستہ یہ منزل  نہ ہو پرائی ،
کاش ہم لوٹ سکیں ، دل سے یہی صدا آئی ،
سپنا تھا سپنا ہی رہ گیا ،
ہوا جیسے پرانے درختوں پہ اجڑے گھونسلوں کو چھو آئی !