احساسات کا خزانہ


آج پھر بہت خاموشی ہے. ہر گزرتے لمحے میں تھکن بڑھتی جا رہی تھی، کچھ کہنا تھا شاید پر الفاظ کہیں کھو گئے تھے جیسے …..
کچھ سوچ کر کاغذ قلم اٹھایا اور برامدے میں لگے پرانے پیپل کے نیچے آ بیٹھی.  رات کا سناٹا پھیل رہا تھا ….

ایک مٹی کا محل تھا اور اس میں ایک موم کی شہزادی رہتی تھی جسکی کلایئوں میں کانچ کی چوڑیاں کھنکتی تھیں . اس مٹی کے محل کے ارد گرد بہت سے پھول تھے جن پہ رنگ برنگی تتلیاں اڑتی پھرتی تھیں .شہزادی کے پاس ایک بڑا سا صندوق تھا جس میں چھوٹے چھوٹے احساسات کا انبار تھا . شہزادی اپنی دنیا میں مگن خوش تھی .
پھر ایک روز وہ اپنے محل سے باہر نکلی دنیا کی سیر کو ، چلتے چلتے کیی اونچے نیچے ٹیلوں پر اترتے چڑھتے پھسلی ، کبھی چوٹ لگی کبھی درد کی شدد سے آنکھوں سے آنسو بھی بہے ، پر شہزادی نے ہمت نہیں ہاری اور دنیا کا سامنا کرتی رہی .
اچانک ایک موڑ پہ ایک شہزادہ ٹکرایا پر شہزادی اس بات سے انجان تھی کہ وہ مٹی کے محل کا نہیں دنیا کا شہزادہ تھا . کچھ ساعتیں اچھی بیت گیئں ، پھر شہزادہ اکتا گیا اور جاتے جاتے شہزادی کے صندوق سے کچھ احساسات چرا کر لے گیا. شہزادی نے اسے بہت روکا بہت روئی پر شہزادہ چلا گیا.
شہزادی نے آنسو پونچھے اور سفر دوبارہ شروع کیا . اب کی بار شہزادی کے پاؤں بھی دنیا کے کانٹوں سے زخمی ہو گئے ، اس کے پاس دوا بھی نہیں تھی اور دنیا نے جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ شہزادی کیوں رو رہی ہے. زخم خود ہی بھرنے لگے ، شہزادی کچھ اور آگے بڑھ گیی .
سفر سالوں پہ محیط تھا ، وقت کے ساتھ شہزادی کا اکلوتا خزانہ اس کے احساسات ختم ہوتے گئے .
وقت نے شہزادی کو ایک اور شہزادے سے ملوایا پر اب کی بار شہزادی احساسات کی کمی کی وجہ سے رکنے کو تیار نہ تھی . شہزادے نے شہزادی کو احساسات کا ایک اور صندوق تھما دیا یہ کہ کر کے وہ کبھی واپس نہیں مانگے گا اور شہزادی کے ساتھ دنیا کا سفر طے کر کے اس کے مٹی کے محل میں اس کے ساتھ رہے گا .
شہزادی خوش  تھی اور اسی خوشی میں وہ اس دیو کو بھی بھول گیی جو ہر وقت اسے ستاتا تھا ، چاہے اس کا مٹی کا محل ہو یا دنیا کا سفر وہ دیو اس کو کا ہراساں کرنا نہیں بھولتا تھا …
شہزادے نے شہزادی کو دنیا کے کیی خوبصورت باغ دکھاے جو شہزادی نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے . ایک روز شہزادی نیند سے جاگی تو اسے شہزادہ کہیں دکھایی نہیں دیا. وہ اسے تلاش کرنے نکلی، صبح سے شام ہو گیی پر شہزادہ نہ ملا . شہزادی کے پیر بھاگتے بھاگتے زخمی ہو گئے پر نہ شہزادہ لوٹا نہ اسکی خبر آیی . رات ہو گیی تب شہزادی کو معلوم ہوا کے احساسات کے دونو صندوق غائب تھے . دنیا کے سفر میں شہزادی کا تمام خزانہ کھو گیا جو دوبارہ کبھی نہیں ملا .
رات گہری ہو گیی اور دیو شہزادی کو ستانے آن پونچھا پر اب کی بار شہزادی خوفزدہ نہیں ہویی بلکہ خاموشی سے دیو کو دیکھتی رہی .
شہزادی کی خاموشی اس رات کے بعد کبھی نہیں ٹوٹی ، کسی نے دوبارہ شہزادی کی آواز نہیں سنی .
مٹی کا محل آج بھی خالی ہے ، پھول بھی اپنی جگہ موجود ہیں پر اب نا وہاں کوئی احساسات کا خزانہ ہے نہ شہزادی…..

ہوا میں ٹھنڈک بڑھ گیی تھی، بادلوں نے چاند کی روشنی کو مدھم کر دیا تھا . سرد ہوا نے اسے وہاں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا . اس نے کاغذ قلم اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیی. اسے نیند آ رہی تھی ، دروازہ بند تھا اور باہر بارش کا شور بڑھ گیا تھا !

Advertisements

Resolutions 2014!


For the first time ever in LIFE, I have made few Resolutions for 2014!

  • I will drink lot of water to get rid of pimples.  😛
  • I will stop looking back rather ask Allah to give me courage to face whatever is coming ahead… and I know Allah is always by my side.  🙂
  • I will stop expecting from everyone…Everyone means Everyone!
  • I will stop running after people, if they care they will stay, if they don’t no one can make them stay…Rule for all (Friends and Family)
  • I will try to be happy all the time and keep thanking Allah for everything he has ever granted me. Thank you Allah for all your blessings upon me.  🙂
  • I will try hard, be honest, put efforts and leave the rest on Allah instead of complaining and regretting. Move ahead!  🙂

These are my Resolutions, What’s yours?

Make few and try your best to follow and believe me Allah will help you.

Take one step towards him, he will take 100 steps towards you. Allah resides in every single heart, it’s just like you have to realize and feel.  🙂

Allah Pak may ease the life of every human, Ameen!

resolution

Insha’Allah!