جانے وہ کیسے لوگ تھے، جن کے پیار کو پیار ملا (Title Song of Pakistani Drama “Pyarey Afzal”)


جانے وہ کیسے لوگ تھے، جن کے پیار کو پیار ملا ،
جانے وہ کیسے لوگ تھے، جن کے پیار کو پیار ملا ،

ہم نے تو جب کلیاں مانگیں کانٹوں کا ہار ملا،
جانے وہ کیسے لوگ تھے، جن کے پیار کو پیار ملا ،

خوشیوں کی منزل ڈھونڈی تو غم کی گرد ملی ،
خوشیوں کی منزل ڈھونڈی تو غم کی گرد ملی ،
چاہت کے نغمیں چاہے تو ، آہیں سرد ملیں ،
دل کے بوجھ کو دونا کر گیا، جو غم خار ملا ،
جانے وہ کیسے لوگ تھے، جن کے پیار کو پیار ملا ،

بچھڑ گیا، بچھڑ گیا،
بچھڑ گیا ہر ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ ،
کس کو فرصت ہے جو تھامے دیوانوں کا ہاتھ،
ہم کو اپنا سایہ تک، اکثر بیزار ملا،
جانے وہ کیسے لوگ تھے، جن کے پیار کو پیار ملا !

Advertisements

2 Comments

  1. These are excellent words. A great poem I must say. But there is a little correction. It is pyar ko pyar mila instead of pyar tou pyar mila.. It means love in return of love..

    • 🙂 Corrected… Thanks Haris and long time… Welcome to my blog again….


Comments RSS TrackBack Identifier URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s