امجد اسلام امجد


دل کے آتشدان میں شب بھر
کیسے کیسے غم جلتے ہیں!
نیند بھرا سناٹا جس دم
بستی کی اک ایک گلی میں
کھڑکی کھڑکی تھم جاتا ہے
دیواروں پر درد کا کہرا جم جاتا ہے
رستہ تکنے والی آنکھیں اور قندیلیں بجھ جاتی ہیں
تو اس لمحے،
تیری یاد کا ایندھن بن کر
شعلہ شعلہ ہم جلتے ہیں
تم کیا جانو،
قطرہ قطرہ دل میں اترتی اور پگھلتی
رات کی صحبت کیا ہوتی ہے!
آنکھیں سارے خواب بجھا دیں
چہرے اپنے نقش گنوا دیں
اور آئینے عکس بھلا دیں
ایسے میں امیں کی وحشت
درد کی صورت کیا ہوتی ہے!
ایسی تیز ہوا میں پیارے،
بڑے بڑے منہ زور دئیے بھی کم جلتے ہیں
لیکن پھر بھی ہم جلتے ہیں
ہم جلتے ہیں اور ہمارے ساتھ تمہارے غم جلتے ہیں
دل کے آتشدان میں شب بھر
تیری یاد کا ایندھن بن کر
ہم جلتے ہیں.
امجد اسلام امجد

Advertisements

Leave a comment

No comments yet.

Comments RSS TrackBack Identifier URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s