فرمایش اور ضد


تم اب ضد نہیں کرتی ؟
ضد ؟
ہاں، اب کوبھی بات نہیں منواتی کچھ مانگتی نہیں؟
……………………………………………………………….
……………………………………………………………………………
……………………………………………………………………………………………
فرمایش کرنا کیوں چھوڑ دیا تمنے ؟
………………………………………………….
اب کوئی فرمایش کیوں نہیں کرتی؟
میں نے فرمایش کی کب ہے؟اب یاد بھی نہیں کہ آخری بار کب کس سے اور کیا فرمایش کی تھی.
ضد کیا ہوتی ہے، اب یاد نہیں اور نہ ہی یہ کہ آخری بار کب کس سے اور کیا زد منوایی تھی .
………………………………………………………..
پھر کیا کرتی ہو؟
اس نے خاموشی سے بس دیکھا تھا اسے!
بتاؤ نا کیا کرتی ہو پھر؟
محنت.
محنت؟ وو تو سب ہی کرتے ہیں. کوئی کمانے کے لئے کوئی جینے کے لئے. پر اس ک ساتھ لوگوں کی خواھشات بھی ہوتی ہیں.اچھا گھر، زیور، کپڑے، اچھی گاڑی اور بہت کچھ .
ہوتی ہوں گی .
تو کیا تمہاری نہیں ہیں؟
نہیں.
پھر؟
کیا پھر؟
پھر کیا خواھش ہے تمہاری؟
کچھ نہیں.
کچھ نہیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
کیوں نہیں ہو سکتا؟
اس دنیا میں جینے کے لئے خواھش کا ہونا ضروری ہے.جینے کی ہی سہی.
اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا، بس خاموش رہی تھی!
تم بہت عجیب ہو.
اچھا.
کیا تمہری کوئی خواھش نہیں؟ کوئی فرمائش کوئی ضد ؟
خواہشیں ناتمام ہی رہتی ہیں، چاہے کتنی ہی زیادہ یا کم کیوں نہ ہوں پھر خواھش کا فائدہ . خود کو کسی خام خیالی میں رکھنے کا کیا فائدہ. اور فرمائش پوری کرنے یا ضد منوانے کے لئے اس فرمائش کو سننے والا اور ضد کو پورا کرنے والا کوئی ہونا چاہیے . جب کوئی ہے ہی نہیں تو فرمائش کس سے کروں اور کس سے ضد منواؤں . اب تو ان الفاظ کے معنی بھی یاد نہیں .
اب دوسری طرف خاموشی تھی………………………..
کوئی تو ہوگا؟
وہ صرف مسکرآیی تھی.
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی نہ ہو .
ایسا ہو سکتا ہے.گر یقین نہیں تو مجھے دیکھ لو یقین ہو جائے گا .
اب اس ک پاس الفاظ نہیں تھے…………….
دونوں طرف خاموشی تھی یا سناٹا !

Advertisements