اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب


اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی ،دل پر
زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب
خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر
آج کی شب
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب
کم نظر دیکھ ہوا کی آہٹ
کس کی خوشبو میں بسی آتی ہے
کون سا عکس ہے جس کی خاطر
آنکھ آئینہ بنی جاتی ہے!
کس طرح چاند اچانک جھک کر
سرد شاخوں سے لپٹ جاتا ہے
کس طرح رنگِ چمن
ایک چہرے میں سمٹ جاتا ہے
سیلِ امواجِ تمنّا کیسے
ساحلِ دل سے پلٹ جاتا ہے
اور کس طور سے طے ہوتا ہے
لڑکھڑاتے ہوئے تاروں کا سفر آج کی شب
بے ہنر! آج کی شب
مجھ کو جی بھر کے اُسے یاد تو کر لینے دے
دولت ِ درد سہی جیب تو بھر لینے دے!!

(امجد اسلام امجد)

Advertisements

امجد اسلام امجد


دل کے آتشدان میں شب بھر
کیسے کیسے غم جلتے ہیں!
نیند بھرا سناٹا جس دم
بستی کی اک ایک گلی میں
کھڑکی کھڑکی تھم جاتا ہے
دیواروں پر درد کا کہرا جم جاتا ہے
رستہ تکنے والی آنکھیں اور قندیلیں بجھ جاتی ہیں
تو اس لمحے،
تیری یاد کا ایندھن بن کر
شعلہ شعلہ ہم جلتے ہیں
تم کیا جانو،
قطرہ قطرہ دل میں اترتی اور پگھلتی
رات کی صحبت کیا ہوتی ہے!
آنکھیں سارے خواب بجھا دیں
چہرے اپنے نقش گنوا دیں
اور آئینے عکس بھلا دیں
ایسے میں امیں کی وحشت
درد کی صورت کیا ہوتی ہے!
ایسی تیز ہوا میں پیارے،
بڑے بڑے منہ زور دئیے بھی کم جلتے ہیں
لیکن پھر بھی ہم جلتے ہیں
ہم جلتے ہیں اور ہمارے ساتھ تمہارے غم جلتے ہیں
دل کے آتشدان میں شب بھر
تیری یاد کا ایندھن بن کر
ہم جلتے ہیں.
امجد اسلام امجد