عمر ے رواں


اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں سوچا تھا،
شب کے بعد اجالا ہوگا،
اجالے میں نکھرا کھلا آسماں ہوگا،
کچھ برکھا چھا یے گی ، قوس و قزاح بکھرے گی،
ہر رنگ زندگی کا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کچھ دھیما ہوگا ،
جب چاند جوبن پہ ہوگا،
اک ٹھنڈک کا حالا ہوگا،
کچھ ایسا ہوگا، کچھ ایسا ہوتا تو، کچھ اور ہی سما ہوتا ،
اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں نہ ہوا،
کبھی سوچا نہ تھا جو وہ ہوگا،
رات کی سیاہی کے ڈھلنے کا انتظار ناتمام ہوا ،
نہ کوئی بدلی چھا یئ ، نہ برکھا بھایی ،
وقت نے ساتھ کچھ یوں چھو ڑا ،
دن سے رات اور رات سے دن تک بس ایک ہی پھیرا ،
مہینوں نہیں سالوں تک محیط ہوا،
آج پھر سے دسمبر آیا ہے ،
عمر بیت گیی،
کچھ تو تو نے تھم کر سوچا ہوگا ؛ اے عمر ے رواں ،
رات کی سیاہی سے کوئی جگنو میرے حصّے کا چرایا ہوگا،
بیتے سالوں بیتے لمحوں کا ایک خوبصورت لمس ، میرے حصّے میں آیا ہوگا،
ایسا کبھی تو سوچا ہوگا،
اک بار ہی سہی،
کبھی تو میرا خیال آیا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کاش یوں ہوا ہوتا،
کوئی جگنو میرا بھی ساتھی ہوتا،
کاش ہر لمحہ تنہا نہ ہوتا،
تو،
آج میں اتنا تھکا نہ ہوتا،
اے عمر ے رواں ؛ آج تیرے بیت جانے کا غم نہ ہوتا،
ایک اور دسمبر تمام ہونے کا ملال نہ ہوتا!

اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب


اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی ،دل پر
زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب
خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر
آج کی شب
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب
کم نظر دیکھ ہوا کی آہٹ
کس کی خوشبو میں بسی آتی ہے
کون سا عکس ہے جس کی خاطر
آنکھ آئینہ بنی جاتی ہے!
کس طرح چاند اچانک جھک کر
سرد شاخوں سے لپٹ جاتا ہے
کس طرح رنگِ چمن
ایک چہرے میں سمٹ جاتا ہے
سیلِ امواجِ تمنّا کیسے
ساحلِ دل سے پلٹ جاتا ہے
اور کس طور سے طے ہوتا ہے
لڑکھڑاتے ہوئے تاروں کا سفر آج کی شب
بے ہنر! آج کی شب
مجھ کو جی بھر کے اُسے یاد تو کر لینے دے
دولت ِ درد سہی جیب تو بھر لینے دے!!

(امجد اسلام امجد)

From the page of Mustansar Hussain Tarar


اسنے کہا کہ کونسا تحفہ ہے من پسند

میں نے کہا وہ شام جو اب تک ادھار ہے !

Dur Jo Ajj Hain!


یار


بلھے شاہ میتھوں یار منایا نی جاندا ،

میں سب کچھ کر کے دیکھ لیا میتھوں یار بھلایا نی جاندا ،

میں بیٹھا وچ مقام دے ، اڈیک موت دی کردا ،

مینوں موت وی نی ملنی ، میں ہلان یار منانا اے !

خواب


میں شائد خوابوں میں زندہ رہنے والی لڑکی ہوں ،

پر یہ دنیا ایک خواب نہیں،

تو مجھے مر جانا چاہیے ،

یونہی جیسے کوئی خواب ٹوٹ گیا!

امجد اسلام امجد


دل کے آتشدان میں شب بھر
کیسے کیسے غم جلتے ہیں!
نیند بھرا سناٹا جس دم
بستی کی اک ایک گلی میں
کھڑکی کھڑکی تھم جاتا ہے
دیواروں پر درد کا کہرا جم جاتا ہے
رستہ تکنے والی آنکھیں اور قندیلیں بجھ جاتی ہیں
تو اس لمحے،
تیری یاد کا ایندھن بن کر
شعلہ شعلہ ہم جلتے ہیں
تم کیا جانو،
قطرہ قطرہ دل میں اترتی اور پگھلتی
رات کی صحبت کیا ہوتی ہے!
آنکھیں سارے خواب بجھا دیں
چہرے اپنے نقش گنوا دیں
اور آئینے عکس بھلا دیں
ایسے میں امیں کی وحشت
درد کی صورت کیا ہوتی ہے!
ایسی تیز ہوا میں پیارے،
بڑے بڑے منہ زور دئیے بھی کم جلتے ہیں
لیکن پھر بھی ہم جلتے ہیں
ہم جلتے ہیں اور ہمارے ساتھ تمہارے غم جلتے ہیں
دل کے آتشدان میں شب بھر
تیری یاد کا ایندھن بن کر
ہم جلتے ہیں.
امجد اسلام امجد