آخری دوست


اتنی خاموش کیوں ہو؟
……………………………
کچھ کہتی کیوں نہیں، اتنی خاموش کیوں ہو؟
ہاں ! نہیں تو.
چلو اٹھو اندر چلو ، یہاں ٹھنڈ بڑھ گیی ہے.
ہاں چلو….
…………………………………………………….
…………………………………………………………..
…………………………………………………………………..
تو آج میرا آخری دوست بھی چلا گیا. ایک تم ہی تو رہ گئے تھے جس سے میں بات کر لیا کرتی تھی کچھ دل ہی بہل جاتا تھا . ورنہ تو سناٹا اتنا ہے کہ کچھ بھی سنایی نہیں دیتا.
آج سناٹا کچھ اور بڑھ گیا ہے .
کیا ہوا سو کیوں نہیں رہی ؟
سو ہی تو رہی ہوں .
اچھا؛ آنکھیں کھول کر کون سوتا ہے……
……………………………………………………
وہ بھی تو چلا گیا تھا. کچھ بھی سوچے بغیر . ایک بار بھی تو نہیں سوچا تھا اسنے جانے سے پہلے …..
پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب ساتھی چلے گئے . وقت آگے بڑھ گیا پر میرا وقت وہیں رک گیا تھا. تب وقت تھمنے کی بہت تکلیف سہی تھی.
اب تکلیف بھی نہیں ہوتی. اسی لئے تو آج اس کے جانے پہ دل بلکل خاموش ہے . کوئی صدا کوئی فریاد نہیں.
آج سناٹا اتنا بڑھ گیا ہے کہ اپنی ذات سے بھی کوئی الفت نہیں رہی !

Advertisements

مرد کی محبّت


محبّت !

محبّت صرف عورت کرتی ہے ، اپنا سب کچھ ایک شخص کے نام کر کے . عورت کی محبّت اسے ایک وجود کے گرد محصور کر دیتی ہے. وہ صرف اسی شخص کو سوچتی ہے اور اسی کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہے. اسے باقی دنیا سے غرض نہیں ہوتی، وہ اپنی انا کو خود اپنے ہی پیروں تلے روند کر صرف اپنی محبّت کو پوجتی ہے.

مرد؛ مرد کسی عورت سے محبّت نہیں کرتا. وہ صرف اپنی آنا اپنی ذات سے محبّت کرتا ہے. اسے عورت اپنے قدموں میں جھکی ہوئی چاہیے. وو خود کو خدا بنا لیتا ہے اور چاہتا ہے عورت اسے بلا کسی عذر کے پوجتی رہے. مرد صرف حاصل کرنا چاہتا ہے. اور جو عورت اسے بغیر کسی تگ و دو کے مل جائے وہ اسے ٹھکرا کر اگے چل دیتا ہے. اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کے وہ عورت اسکی محبّت میں خود کو بھلا کر صرف اس کے لئے اپنا آپ بدلنے کو تیار ہو گیی ہے. وہ عورت کے چہرے پہ لکھی تحریر نہیں پڑھ سکتا. مرد جسے حاصل کر لے اسے توڑ دیتا ہے. اور یہی اسکی انا کی تسکین ہوتی ہے.

مرد عورت کو ٹھوکر مار کر چل دیتا ہے اور عورت تمام عمر ایک وصل لاحاصل میں سرگرداں رہتی ہے. اسکی انا اور خوداری اسکی محبّت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے. پھر تمام عمر وہ ٹھکراے جانے کی اذیت سہتی ہے اور خود کو بہلاتی رہتی ہے.

مرد کبھی محبّت نہیں کرتا . مرد اپنی انا کہ حصار میں قید رہتا ہے. اسے عورت کی محبّت کی نہیں اپنی جیت سے لگاو ہوتا ہے!

مرد کی محبّت ایک سراب کی مانند ہے اور سراب کبھی حقیقت نہیں بنتا!

Inspiration from Ashfaq Ahmed!

کیوں؟


خدا کو ہمیشہ وہی کیوں چاہیے جو مجھے چاہیے ہوتا ہے؟ وہ ہمیشہ مجھ سے میری چاہ کیوں چھین لیتا ہے ؟ وہ میری دعا کیوں نہیں سنتا؟ وہ میری دعایئں قبول کیوں نہیں کرتا؟ کیا کمی ہے اس کے پاس پھر وہ میری چاہ ہی کیوں لے لیتا ہے مجھ سے؟ وہ تو بےنیاز ہے نا ، سب کو بنا مانگے دے دیتا ہے پھر مجھے مانگے سے بھی کیوں نہیں دیتا؟ گناہ تو سب کرتے ہیں، میں تنہا تو نہیں . پھر مجھے ہی کیوں نہیں ملتا .
کیا میں انسان نہیں یا مجھے تکلیف نہیں ہوتی. پھر الله کو وہ تکلیف کیوں نہیں دیکھتی ؟ مجھے تکلیف ہوتی ہے بہت ہوتی ہے، پھر الله کو کیوں محسوس نہیں ہوتی؟
کیوں؟

دعا


اب کی بار بہت مان سے ہتھیلیوں کا کشکول بنایا تھا ، بہت مان سے مانگا تھا . یہ سوچا تھا کہ اب تو مل ہی  جائے گا ، اب کے دعا رد نہیں کی جائے گی . اب کے آنسوں کے شفاف ہونے میں کوئی کمی نہیں تھی . اب کے عاجزی سے التجا کی  تھی . پھر بھی نا راضی کر پایی میں اپنے رب کو . ایک بار پھر ہر دعا میرے ہونٹوں پر ہی  دم  توڑ گیی . 

صرف آنکھوں سے بہتے اشک ہیں جو تھمنے میں نہیں آتے . اگرچہ یقین ہے کہ اس میں بہتری چھپی ہے تو پھر دل کو قرار آ جانا چاہیے . دل تھم جانا چاہیے. یہ بھی شائد حکمت ہی ہے ! 

Surrender!


Life is all about moving on while carrying burden of lessons which we pick up on the way. Those lessons are either make us strong or they teach us in million ways. We are either served by the people or we serve them, either way we learn lesson. By all this learning theory, either we start expecting or we get enough to not ever expect anything from anyone. Later is the best one.

I always used to believe in “WE” and my priority ever started with “THEM” or “WE” but the first lesson I was taught by Canadians was “I” and y bad that I couldn’t learn that lesson and so I am suffering.

My suffering still couldn’t change anything in me and it never would be able to change my approach of viewing life. The only thing I accepted is “No one is yours” and no one will ever bother to think how you feel.

The assurance I have is “surrender”. I have surrendered in front of life, against human beings and now no one could ever hurt me.

Surrender!

خواب


میں شائد خوابوں میں زندہ رہنے والی لڑکی ہوں ،

پر یہ دنیا ایک خواب نہیں،

تو مجھے مر جانا چاہیے ،

یونہی جیسے کوئی خواب ٹوٹ گیا!

2014 Conclusion!


Today is the last day of 2014. It’s 6:44pm and I have been sitting alone in my room thinking of what did we lose and what did we find in 2014. Sadly, loss is more than anything good. It wasn’t a good year for Pakistan. It started with killing and ended on taken away innocent lives of children and left their parents mourning over for lifetime.
It was an year of struggle and fight. 2014 taught me hundreds of lessons which made me cry my heart out, which broke me down and lost hope in everything. I was slapped by harsh realities and demons of loneliness. In every second I thought of my home, my family and my friends.
But apart from all negative happenings I also found good friends in Canada. Along with bearing harsh weather I finally secured a job which is totally a miracle for me otherwise I would never be able to get that. I’m thankful to all those who gave me an opportunity to prove myself and by the grace of Allah today I’m able to work with good organization.
I strongly believe that Allah is the only one who is providing us sustenance.
I can’t afford to visit Pakistan soon but I will must go one day InshaAllah.
My life is moving on and I certainly don’t know where is it taking me but I know that Allah is the best of planner because yes my belief got stronger when I saw all my plans failed.
Today on the last day of 2014 when I’m slightly recovered from stroke of pneumonia and during all passed days of my sickness when I was unable to open my eyes and reach to get glass of water, I thanked to Allah for all the senses and abilities he has given me. During my illness I learned how helpless you are that you can’t even raise your hand without the will of your lord but we are the ones who continuously disobey.
So as a conclusion, I learned to thank Allah in 2014.
What did you learn?

Happy New Year 2015 to everyone and I pray that this year brings you health, safety, love, peace and humanity.