عمر ے رواں


اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں سوچا تھا،
شب کے بعد اجالا ہوگا،
اجالے میں نکھرا کھلا آسماں ہوگا،
کچھ برکھا چھا یے گی ، قوس و قزاح بکھرے گی،
ہر رنگ زندگی کا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کچھ دھیما ہوگا ،
جب چاند جوبن پہ ہوگا،
اک ٹھنڈک کا حالا ہوگا،
کچھ ایسا ہوگا، کچھ ایسا ہوتا تو، کچھ اور ہی سما ہوتا ،
اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں نہ ہوا،
کبھی سوچا نہ تھا جو وہ ہوگا،
رات کی سیاہی کے ڈھلنے کا انتظار ناتمام ہوا ،
نہ کوئی بدلی چھا یئ ، نہ برکھا بھایی ،
وقت نے ساتھ کچھ یوں چھو ڑا ،
دن سے رات اور رات سے دن تک بس ایک ہی پھیرا ،
مہینوں نہیں سالوں تک محیط ہوا،
آج پھر سے دسمبر آیا ہے ،
عمر بیت گیی،
کچھ تو تو نے تھم کر سوچا ہوگا ؛ اے عمر ے رواں ،
رات کی سیاہی سے کوئی جگنو میرے حصّے کا چرایا ہوگا،
بیتے سالوں بیتے لمحوں کا ایک خوبصورت لمس ، میرے حصّے میں آیا ہوگا،
ایسا کبھی تو سوچا ہوگا،
اک بار ہی سہی،
کبھی تو میرا خیال آیا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کاش یوں ہوا ہوتا،
کوئی جگنو میرا بھی ساتھی ہوتا،
کاش ہر لمحہ تنہا نہ ہوتا،
تو،
آج میں اتنا تھکا نہ ہوتا،
اے عمر ے رواں ؛ آج تیرے بیت جانے کا غم نہ ہوتا،
ایک اور دسمبر تمام ہونے کا ملال نہ ہوتا!

December in Canada


IMG_0817.JPG

IMG_0819.JPG

IMG_0838.JPG

IMG_0826.JPG

IMG_0824.JPG

IMG_0842.JPG

End of December!


Image

What if;

Nights won’t be longer enough,

Days won’t be shorter to produce darkness,

Darkness which would be mingled with the aloofness of night,

Seasons won’t be changed and moon won’t be chased,

Fog won’t be blurred and roads won’t be higher,

Roughness could be mended,

Roads won’t be scattered,

What if; Life won’t be crooked and thoughts won’t be maze!

As if; Nothingness won’t be constant!