مرد کی محبّت


محبّت !

محبّت صرف عورت کرتی ہے ، اپنا سب کچھ ایک شخص کے نام کر کے . عورت کی محبّت اسے ایک وجود کے گرد محصور کر دیتی ہے. وہ صرف اسی شخص کو سوچتی ہے اور اسی کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہے. اسے باقی دنیا سے غرض نہیں ہوتی، وہ اپنی انا کو خود اپنے ہی پیروں تلے روند کر صرف اپنی محبّت کو پوجتی ہے.

مرد؛ مرد کسی عورت سے محبّت نہیں کرتا. وہ صرف اپنی آنا اپنی ذات سے محبّت کرتا ہے. اسے عورت اپنے قدموں میں جھکی ہوئی چاہیے. وو خود کو خدا بنا لیتا ہے اور چاہتا ہے عورت اسے بلا کسی عذر کے پوجتی رہے. مرد صرف حاصل کرنا چاہتا ہے. اور جو عورت اسے بغیر کسی تگ و دو کے مل جائے وہ اسے ٹھکرا کر اگے چل دیتا ہے. اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کے وہ عورت اسکی محبّت میں خود کو بھلا کر صرف اس کے لئے اپنا آپ بدلنے کو تیار ہو گیی ہے. وہ عورت کے چہرے پہ لکھی تحریر نہیں پڑھ سکتا. مرد جسے حاصل کر لے اسے توڑ دیتا ہے. اور یہی اسکی انا کی تسکین ہوتی ہے.

مرد عورت کو ٹھوکر مار کر چل دیتا ہے اور عورت تمام عمر ایک وصل لاحاصل میں سرگرداں رہتی ہے. اسکی انا اور خوداری اسکی محبّت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے. پھر تمام عمر وہ ٹھکراے جانے کی اذیت سہتی ہے اور خود کو بہلاتی رہتی ہے.

مرد کبھی محبّت نہیں کرتا . مرد اپنی انا کہ حصار میں قید رہتا ہے. اسے عورت کی محبّت کی نہیں اپنی جیت سے لگاو ہوتا ہے!

مرد کی محبّت ایک سراب کی مانند ہے اور سراب کبھی حقیقت نہیں بنتا!

Inspiration from Ashfaq Ahmed!

Advertisements