عمر ے رواں


اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں سوچا تھا،
شب کے بعد اجالا ہوگا،
اجالے میں نکھرا کھلا آسماں ہوگا،
کچھ برکھا چھا یے گی ، قوس و قزاح بکھرے گی،
ہر رنگ زندگی کا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کچھ دھیما ہوگا ،
جب چاند جوبن پہ ہوگا،
اک ٹھنڈک کا حالا ہوگا،
کچھ ایسا ہوگا، کچھ ایسا ہوتا تو، کچھ اور ہی سما ہوتا ،
اے عمر ے رواں ؛
کچھ یوں نہ ہوا،
کبھی سوچا نہ تھا جو وہ ہوگا،
رات کی سیاہی کے ڈھلنے کا انتظار ناتمام ہوا ،
نہ کوئی بدلی چھا یئ ، نہ برکھا بھایی ،
وقت نے ساتھ کچھ یوں چھو ڑا ،
دن سے رات اور رات سے دن تک بس ایک ہی پھیرا ،
مہینوں نہیں سالوں تک محیط ہوا،
آج پھر سے دسمبر آیا ہے ،
عمر بیت گیی،
کچھ تو تو نے تھم کر سوچا ہوگا ؛ اے عمر ے رواں ،
رات کی سیاہی سے کوئی جگنو میرے حصّے کا چرایا ہوگا،
بیتے سالوں بیتے لمحوں کا ایک خوبصورت لمس ، میرے حصّے میں آیا ہوگا،
ایسا کبھی تو سوچا ہوگا،
اک بار ہی سہی،
کبھی تو میرا خیال آیا ہوگا،
اے عمر ے رواں ؛ کاش یوں ہوا ہوتا،
کوئی جگنو میرا بھی ساتھی ہوتا،
کاش ہر لمحہ تنہا نہ ہوتا،
تو،
آج میں اتنا تھکا نہ ہوتا،
اے عمر ے رواں ؛ آج تیرے بیت جانے کا غم نہ ہوتا،
ایک اور دسمبر تمام ہونے کا ملال نہ ہوتا!

مرد کی محبّت


محبّت !

محبّت صرف عورت کرتی ہے ، اپنا سب کچھ ایک شخص کے نام کر کے . عورت کی محبّت اسے ایک وجود کے گرد محصور کر دیتی ہے. وہ صرف اسی شخص کو سوچتی ہے اور اسی کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہے. اسے باقی دنیا سے غرض نہیں ہوتی، وہ اپنی انا کو خود اپنے ہی پیروں تلے روند کر صرف اپنی محبّت کو پوجتی ہے.

مرد؛ مرد کسی عورت سے محبّت نہیں کرتا. وہ صرف اپنی آنا اپنی ذات سے محبّت کرتا ہے. اسے عورت اپنے قدموں میں جھکی ہوئی چاہیے. وو خود کو خدا بنا لیتا ہے اور چاہتا ہے عورت اسے بلا کسی عذر کے پوجتی رہے. مرد صرف حاصل کرنا چاہتا ہے. اور جو عورت اسے بغیر کسی تگ و دو کے مل جائے وہ اسے ٹھکرا کر اگے چل دیتا ہے. اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کے وہ عورت اسکی محبّت میں خود کو بھلا کر صرف اس کے لئے اپنا آپ بدلنے کو تیار ہو گیی ہے. وہ عورت کے چہرے پہ لکھی تحریر نہیں پڑھ سکتا. مرد جسے حاصل کر لے اسے توڑ دیتا ہے. اور یہی اسکی انا کی تسکین ہوتی ہے.

مرد عورت کو ٹھوکر مار کر چل دیتا ہے اور عورت تمام عمر ایک وصل لاحاصل میں سرگرداں رہتی ہے. اسکی انا اور خوداری اسکی محبّت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے. پھر تمام عمر وہ ٹھکراے جانے کی اذیت سہتی ہے اور خود کو بہلاتی رہتی ہے.

مرد کبھی محبّت نہیں کرتا . مرد اپنی انا کہ حصار میں قید رہتا ہے. اسے عورت کی محبّت کی نہیں اپنی جیت سے لگاو ہوتا ہے!

مرد کی محبّت ایک سراب کی مانند ہے اور سراب کبھی حقیقت نہیں بنتا!

Inspiration from Ashfaq Ahmed!

کیوں؟


خدا کو ہمیشہ وہی کیوں چاہیے جو مجھے چاہیے ہوتا ہے؟ وہ ہمیشہ مجھ سے میری چاہ کیوں چھین لیتا ہے ؟ وہ میری دعا کیوں نہیں سنتا؟ وہ میری دعایئں قبول کیوں نہیں کرتا؟ کیا کمی ہے اس کے پاس پھر وہ میری چاہ ہی کیوں لے لیتا ہے مجھ سے؟ وہ تو بےنیاز ہے نا ، سب کو بنا مانگے دے دیتا ہے پھر مجھے مانگے سے بھی کیوں نہیں دیتا؟ گناہ تو سب کرتے ہیں، میں تنہا تو نہیں . پھر مجھے ہی کیوں نہیں ملتا .
کیا میں انسان نہیں یا مجھے تکلیف نہیں ہوتی. پھر الله کو وہ تکلیف کیوں نہیں دیکھتی ؟ مجھے تکلیف ہوتی ہے بہت ہوتی ہے، پھر الله کو کیوں محسوس نہیں ہوتی؟
کیوں؟

Tum mere he rehna!


تو بھول گیا ، ہے یاد میری،
وہ پیار تیرا ، فریاد میری،
تو انے والا کل، یا بیتا ہواہے پل،
ہر سانس ادھوری ہے ، ہر لمحہ یہ دوری ہے!

تیری بانھوں سے جو ناتا ہے، ٹوٹے نہ کبھی وہ دھاگہ ہے،
تیری خاموشی کا ، جانے کیا ارادہ ہے،
امید کی گلیوں میں، عاشق یہ اوارہ ہے !

http://youtu.be/Iw-gKLicdgY

محبت


وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے.
یہی سنا تھا اسنے سب سے اسی لئے کبھی قدم نہیں لڑکھڑا ے اس کے ، کبھی ہار نہیں مانی . نہ ہی تھکا دینے والی پریشانیوں سے اور نہ ہی دن رات کی مسلسل محنت سے.
صرف یہی یاد رکھا، ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ، ایک دن اسے ضرور محنت کا میٹھا پھل ملے گا.
وقت گزرتا رہا، دن رات ایک ایک لمحہ ،ہفتے مہینے اور پھر سال.
یہ نہیں سوچا خواب کیا ہوتے ہیں، یہ بھی نہیں سوچا میری زندگی سب کی زندگیوں سے اس قدر مختلف کیوں ہے . سب کی زندگیوں میں جو رونق اور روشنی ہے وہ میری زندگی میں کیوں نہیں .
………………………………….
………………………………………….
………………………………………………..
کیا سوچ رہی ہو؟
کچھ نہیں.
خیر کچھ تو سوچ رہی تھی پر یونہی کہ دیا کچھ نہیں. اب بتانا نہ چاہو تو الگ بات ہے.
……………………………………………….
تمنے کھانا کھا لیا؟
ہاں . کھا لیا .
چاے پیو گی ؟
ہاں نیکی اور پوچھ پوچھ .
………………………………………………
بال میں سفیدی اترنے لگی ہے. کمرے سے نکلتے سمے آیئے میں دیکھ کر سوچا تھا اس نے .
………………………………………………
………………………………………………………….
……………………………………………………………………
پانی ابلنے لگا تو دودھ پتی ڈال کر اسے خیال آیا.
تمنے شادی نہیں کی؟
آج ایک کولیگ نے پوچھا تھا.
نہیں !
کیوں؟
پتا نہیں.
یہ کیا بات ہوئی .
اور وہ مسکرا دی.
………………………………………….
چاے میں ابال آ گیا تھا .
………………………………………….
یہ لو چاے .
ارے واہ . تمنے تو کمال کر دیا. تمہے پتا ہے سردی کی راتوں میں چاے پینے کا اپنا ہی مزہ ہے.
وو مسکرا دی.
کیا بات ہے؟ بہت خاموش ہو؟
نہیں تو.
اچھا ……………
تمنے بتایا نہیں آج tv پہ کونسا ڈرامہ چلا تھا؟
آج …………
ارے یاد آیا. آج وہی جس میں ہیرو مر جاتا ہے بیچارہ اور لڑکی ظلم برداشت کرتی رہتی ہے. اب یہ بھی کوئی ڈرامہ ہوا ہوا بھلا.
کیوں؟
ارے ڈرامہ کو ڈرامہ ہونا چاہیے. اصلی زندگی سے مختلف . کچھ رنگ ہونے چاہییں کچھ ہنسی کچھ مزہ.
یہ تو وہی بات ہویی سوتی جاگتی زندگی اور ڈرامہ میں کوئی فرق ہی نہیں.
فرق؟
ہاں . اب پتا ہے وہ میری سہیلی بتا رہی تھی کہ اسکی پھوپی کی بیٹی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہے ہوا. شوہر مر گیا تو نند اور ساس کو مفت کی ملازمہ مل گیی وہ بھی بےزبان . اب اگر کچھ بولے گی تو کہاں جائے گی. بھائی تو رکھنے والے نہیں اسے . ماں باپ کی کون سنتا ہے آج کل . سو بس بیچاری. مجھے تو بہت ترس آیا اس پر .
ہمم…
کیا ہوا؟
نیند آ رہی ہے . کل جاب پر بھی جانا ہے. میں سو رہی ہوں.
اف ہے. اچھا سو جاؤ.
………………………………………………………………
………………………………………………
…………………………….
……………..
آج Emails چیک کرتے ہوے اسے ایک شناسا نام نظر آیا. سنا سنا سا ہے .
Email کھولی تو….
کیسی ہیں . میں یاد ہوں آپ کو…………………….. اور نہ جانے یہ بندا کیوں یاد رہ گیا تھا اسے، آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی.
جواب دے کر یہی سوچتی رہی. پھر روز کے کاموں میں الجھ کر بھول بھی گیی
جواب آیا تھا ……………..
بچے کیسے ہیں آپ کے اور شوہر.
حیرت ہویی اسے …
میری شادی نہیں ہویی.
کیوں؟
کوئی ملا نہیں؟
نہیں. کسی نے مجھے ڈھونڈا ہی نہیں.
ارے یہ کیسا جواب ہوا.
بس یہی جواب ہے.
آپ نے کر لی شادی؟
میری امی ڈھونڈ رہی ہیں لڑکیاں.
کیوں کتنی شادیاں کرنی ہیں آپکو؟
ایک ہی…..
پھر لڑکی ڈھونڈیں، لڑکیاں کیوں ڈھونڈ رہے ہیں.
اور وو ہنس دیا تھا.
…………………………………………………………..
……………………………………………………
…………………………………………..
میسج آیا تھا. آپ فارغ ہیں تو آپ سے کچھ دیر بات کر لوں.
ہاں آج چھٹی ہے نہ.
ڈسٹرب تو نہیں کیا آپکو؟
نہیں.
کیا کرتی ہیں چھٹی کے دن؟
کچھ خاص نہیں.
گھر کے چھوٹے چھوٹے کام.
بس؟
ہاں.
چلیں ایک گیم کھیلتے ہیں. میں سوال کروں گا آپ جواب دینا.ٹھیک؟
ٹھیک.
نام کیا ہے؟
ارے یہ تو پتا ہے آپکو.
پھر بھی بتا دیں.
اسآور .
کتابیں پڑھتی ہیں؟
ہاں کبھی کبھی.
سپورٹ کونسی پسند ہے؟
پتا نہیں. کبھی وقت نہیں ملا.
اچھا یہ بتایئں. لوگ کیسے پسند ہیں؟
زندہ دل ، دردمند، پیار کرنے والے.
برا کیا لگتا ہے؟
غرور.
اچھا کیا لگتا ہے؟
سمندر.
سمندر کیوں؟
گہرا ہوتا ہے نا. بہت سے راز اپنے اندر رکھ کر بھی بہتا رہتا ہے . پرسکون .
اچھا………….
اور کیا اچھا لگتا ہے؟
پورا چاند.
کیوں؟
طوالت طے کرتا ہے، بڑھتا ہے، گھٹتا ہے . اتنے سفر میں بھی اسکی روشنی ماند نہیں پڑتی.
کس سے شادی کریں گی؟
لڑکے سے.
وہ ہنسی تھی…… اور وہ بھی…………
ارے نہیں میرا مطلب کیسا انسان چاہیے ؟
چاہنے سے کیا ہوتا ہے؟ چاہنے سے وہ تھوڑی ملتا ہے جو ہم چاہیں.
مل بھی سکتا ہے . سب کچھ مل سکتا ہے.
اچھا آپ بتایئں……………..
لوگوں سے پیار کرنے والا، دردمند دل رکھنے والا، سب کی مدد کرنے والا، الله سے ڈرنے والا،اور محنت کرنے کے اپنی زندگی خود بنانے والا. جو خود کو دوسروں سے اونچا نہ سمجھے، کسی کو اپنے آگے حقیر نہ جانے . محنت کرنے پہ یقین رکھے اور الله پہ توکل .
اتنا سب کچھ چاہیے آپکو…………پھر آپ کیا دیں گی اسے؟
میں اسکا ساتھ زندگی کے ہر اچھے برے وقت میں، اسکو یہ یقین کہ وہ تنہا نہیں ہے. اسکا اور اسکے گھر کا خیال. وہ عزت اور وفاداری جو ایک اچھی بیوی اچھے ساتھی کو دینا چاہیے .
بس؟
اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے ایک اچھے رشتے کو نبھانے میں لیکن سب سے ضروری تو عزت اور بھروسہ ہے نہ.
بس؟
کیا مطلب؟
میرا مطلب یہ سب کچھ تو کافی نہیں ہے .
میں سمجھی نہیں.
آپ سب کچھ دیں گی پر محبت نہیں؟
وہ ہنسنے لگی تھی…………
……………………………………………….
………………………………………………………..
آپکے سوال ختم ہو گئے ؟
نہیں؟
تو پھر جلدی سے ختم کر لیں کیوں کہ مجھے کچھ کام سمیٹنے ہیں .
پہلے آپ بتایئں محبت نہیں کریں گی ؟
کروں گی بابا. محبت بھی کروں گی. اب جانے دیں. جب کوئی ملا تب کی تب سوچیں گے.
پھر مجھ سے کریں گی؟
کیا؟
وہ سب کچھ جو آپنے کہا.
خیال، عزت، بھروسہ، شادی اور محبت؟
………………………………………………………………
……………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………..
وہ خاموش ہو گی تھی.
اپنے جواب نہیں دیا؟
……………………………………….
کیا جواب دیتی. سوال ہی اتنا عجیب تھا یا پھر اس کے لئے عجیب تھا .
آپ سوچ کر بتا دیں، میں انتظار کروں گا.
کتنا؟
ایک سال، دو سال، پانچ سال، آٹھ سال، پندرہ سال…………..
ارے رک جایئں اتنے سال بعد آپ میرے بھوت سے شادی کریں گے کیا. کیوں کہ اتنے سال بعد تو شائد میں زندہ بھی نہ ہوں.
نہیں آپ کہیں اسی سال کروں گا.
کیوں؟
کیوں کہ آپکو محبت بھی تو کروانی ہے نہ …………..
اور وہ دل سے ہنسا تھا. وہ تنہا نہیں تھا، کوئی اور اور بھی اسکے ساتھ ہنسنے لگا تھا .شائد محبت سیکھنے لگا تھا کوئی!
………………………………………………………
………………………………………………………………..
……………………………………………………………………………
فاصلے ہمیں دور نہیں کریں گے. میں جلد آ جاؤں گا. وعدہ .
اور پھر انتظار تھا…………..
کہاں چلو گی میرے ساتھ؟
جہاں آپ لے جاؤ.
سمندر ؟
ہاں.
………………………………………….
…………………………………………………….
……………………………………………………………..
دعا کرو میرے لئے.
کرتی ہوں روز، ہر لمحہ .
…………………………………………….
……………………………………………………..
………………………………………………………………
بہت خاموشی ہو گیی تھی . نجانے کیوں اسے لگنے لگا تھا کچھ ہونے والا ہے . کچھ برا ہونے والا ہے . وہ ڈرنے لگی تھی .
آپ جلدی آجایئں .مجھے ڈر لگتا ہے.
ڈرو نہیں، الله ہے نہ !
…………………………………….
………………………………………….
………………………………………………….
سنو! مجھے ڈر لگتا ہے .
کس بات سے؟
تمہے کھو دینے سے .
ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟
بس یونہی.
آیندہ مت کہیے گا.
سنو. یہ زندگی بہت ظالم ہے.اس سے لڑنا پڑتا ہے. کبھی کبھی ہمیں اکیلے ہی جینا پڑتا ہے .
ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟
بس تمہے بتا رہا ہوں.
……………………………………………
………………………………………………………
…………………………………………………………………..
پھر وہ اکیلی رہ گیی تھی . وہ چلا گیا تھا ہمیشہ کہ لئے.اسے تنہا جینے کے لئے چھوڑ کر.
…………………………………………
میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے . مجھے معاف کر دو.
……………………………………………
اسکی کوئی التجا نہیں سنی تھی اسنے، اسکی کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، بس وہ چلا گیا تھا .
الله نے بھی اسکی کوئی دعا نہیں سنی تھی. نہ اسکے سجدے کام آے نہ آنسو .اسے لگا اسنے زندگی میں کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا تھا، اسی لئے آج سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا بلکہ سب کچھ ختم ہو گیا تھا!
……………………………………………..
…………………………………………………………..
…………………………………………………………………….
اسنے آنکھیں بند کرلی تھیں . ایک آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہو گیا تھا.
تم اب تک سوئی نہیں؟ سو جاؤ.
ہاں. سردی بہت ہے نہ.شائد اسلئے.
ہمم …………..
آنکھیں بند کر لی تھیں پر …………………
مجھے بھول جاؤ!
آواز آیی تھی…….
کیسے؟ یہ بھی بتا دو!
…………………………………………………………………
……………………………………………………………………………….
…………………………………………………………………………………………….
تھمنے شادی نہیں کی اسآور ؟
اور وہ مسکرا دی تھی!
………………………………………………………….
اب کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہوگا. اسنے ایک جگہ پڑھا تھا اللہ کسی پہ ظلم نہیں کرتا، بندہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے اور وہ یہی سوچتی تھی اسنے اپنے آپ پر کیا ظلم کیا.
………………………………………………………….
………………………………………………….
………………………………………..
……………………………..
پتا ہے آج ڈرامہ میں کیا ہوا، ارے وہی والا ………………
اور وہ بس مسکرا رہی تھی، شائد!

بھرم


نہ جاتے تو کیا ہوتا, بس میرا یقین تو قایم رہتا کہ دعایئں  قبول ہوتی ہیں. کبھی یوں لگتا ہے جیسے لوٹ ہی آ و گے جیسے میری دعایئں  قبول ہو ہی چکی ہیں , جیسے معجزہ  ہونے کو ہے. کہو لوٹ او گے نا . میرے یقین کا بھرم رکھنے کو ہی  کہ دو , ہاں  لوٹ آ ؤں  گا. کہ دو آ و گے نا!

میری زندگی لوٹا کرتو جاؤ،


سنو،
گر جانا ہی ٹھہرا ،
اتنا تو بتا دو،
خواب کیسے توڑتے ہیں،
جانے سے پہلے،
یہ حق دلا دو،
ہر گزرے لمحے کو فسانہ کیوں کر سمجھتے ہیں،
اب جا ہی رہے ہو،
تو جانے سے پہلے ،
ہر امید توڑتے تو جاؤ ،
ہر لفظ کا حق نہیں، وعدہ وفا نہیں،
بےوفائی کا سبق سکھا کر تو جاؤ،
تمہارے بغیر کیوں کر جیئں ،
بہتے آنسو کیسے پیئں ،
سکھا کر تو جاؤ،
وہ تمام لمحے،وہ تمام لفظ،
وہ تمام حق جو تم پہ دیے تھے،
یہ قرض چکا کر تو جاؤ،
اک بار لوٹ آو،
صرف یہ دیکھنے کو،
تمہارے بغیر کیسے جیتے ہیں،
یادوں ک سبیل تھامے ،
انجان دنیا انجان رستوں پہ تنہا کھڑے ہیں،
اک بار تو آو،
یا پھر ،
میری زندگی کے صفحوں سے، ماضی کا ہر نقش مٹا کرتو جاؤ،
میری زندگی لوٹا کرتو جاؤ،