اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب


اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی ،دل پر
زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب
خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر
آج کی شب
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب
کم نظر دیکھ ہوا کی آہٹ
کس کی خوشبو میں بسی آتی ہے
کون سا عکس ہے جس کی خاطر
آنکھ آئینہ بنی جاتی ہے!
کس طرح چاند اچانک جھک کر
سرد شاخوں سے لپٹ جاتا ہے
کس طرح رنگِ چمن
ایک چہرے میں سمٹ جاتا ہے
سیلِ امواجِ تمنّا کیسے
ساحلِ دل سے پلٹ جاتا ہے
اور کس طور سے طے ہوتا ہے
لڑکھڑاتے ہوئے تاروں کا سفر آج کی شب
بے ہنر! آج کی شب
مجھ کو جی بھر کے اُسے یاد تو کر لینے دے
دولت ِ درد سہی جیب تو بھر لینے دے!!

(امجد اسلام امجد)

Advertisements

یاد نہ آیا کریں


ان یادوں سے کہو یاد نہ آیا کریں,
جو ادھوری سانسیں ہیں ,
وہ آنسوؤں سے پیوستہ ہیں,
تمہے  کیا خبر کیسے جیتے ہیں کیسے ہنسا کرتے ہیں,
کچھ لمحے ادھار  دو,
بس اتنا احساں  کر دو ,
ان ادھار  لمحوں میں ,
یادوں سے کہو یاد نہ آیا کریں,

ہر لفظ تمسے جڑا  ہے ,
ہر لمحہ وہ ہر ورق دوہراتا ہے ,
جو تمسے وابستہ ہے,
ذہن کے افق پر وہ ہر نقش سبط ہے ,
جو تمہاری  یاد کی  بازگشت کو بار بار دوہراتا ہے,
سنو,
پھر یوں کردو,
یادوں سے کہو یاد نہ آیا کریں!

وہ لوٹ آتا


کبھی محبّت بلکتی دیکھی ہے،
یہ سوچ ،
اس کی سماعت سے جو ٹکراتی،
دکھ دینے سے پہلے،
وہ لوٹ آتا ،
یہی دعا ہے،
روح کے مرنے سے پہلے،
وہ لوٹ آتا!

میری زندگی لوٹا کرتو جاؤ،


سنو،
گر جانا ہی ٹھہرا ،
اتنا تو بتا دو،
خواب کیسے توڑتے ہیں،
جانے سے پہلے،
یہ حق دلا دو،
ہر گزرے لمحے کو فسانہ کیوں کر سمجھتے ہیں،
اب جا ہی رہے ہو،
تو جانے سے پہلے ،
ہر امید توڑتے تو جاؤ ،
ہر لفظ کا حق نہیں، وعدہ وفا نہیں،
بےوفائی کا سبق سکھا کر تو جاؤ،
تمہارے بغیر کیوں کر جیئں ،
بہتے آنسو کیسے پیئں ،
سکھا کر تو جاؤ،
وہ تمام لمحے،وہ تمام لفظ،
وہ تمام حق جو تم پہ دیے تھے،
یہ قرض چکا کر تو جاؤ،
اک بار لوٹ آو،
صرف یہ دیکھنے کو،
تمہارے بغیر کیسے جیتے ہیں،
یادوں ک سبیل تھامے ،
انجان دنیا انجان رستوں پہ تنہا کھڑے ہیں،
اک بار تو آو،
یا پھر ،
میری زندگی کے صفحوں سے، ماضی کا ہر نقش مٹا کرتو جاؤ،
میری زندگی لوٹا کرتو جاؤ،

مت رونا


Once I read this poem in a book by unknown author but today true meaning of words resonate…..

 

اور
جب میں بظاھر مر جاؤں
تو تم مت رونا
میرے وہ تمام خط
کہ جن میں ہماری تمہاری باتیں ہیں
نکالنا ، پڑھنا اور مسکرا دینا
اور گر مجھے دیکھنے کو دل چاہے
تو اپنے دل میں جھانک لینا
یقین کرو جاناں
میں جب تک تمہارے دل میں ہوں
کبھی مر نہیں سکتا !

Mujhey Vida Kar!


Mujhey vida kar, Mujhey vida kar,

Mujhey vida kar, Mujhey vida kar,

Aye meri zaat ki rooh chal vida kar,

Mujhey vida kar,

Mein tere sath apney aap k sayah ghaar mein,

Boht panah le chuka,

Mein apney hath paon dil k taag mein tapa chuka,

Mujhey vida kar, Mujhey vida kar,

Key aab o gil k A’anso’on key bey sadaye sun sakoon,

Mujhey vida kar  Mujhey vida kar,

Boht he dair dair jaisi dair ho chuki,

Key ab ghari mein beeswe’enn sad’di ki raat baj chuki,

Mujhey vida kar, Mujhey vida kar,

Key apney aap mein me itne khawab jee chuka,

Key hosla nahi, Key hosla nahi,

Mein itni baar apney zakhm aap see chuka,

Key hosla nahi, Key hosla nahi!

 

On One of the visitor’s request, I wrote it in Urdu Version…!

مجھے وداع کر، مجھے وداع کر،
مجھے وداع کر، مجھے وداع کر،
اے میری ذات کی روح چل وداع کر،
مجھے وداع کر،

میں تیرے ساتھ اپنے آپ کے سیاہ غار میں،
بہت پناہ لے چکا،
میں اپنے ہاتھ پاؤں دل کے تاگ میں تپا چکا،
مجھے وداع کر ، مجھے وداع کر،
کہ آب و گل کے آؤںسوں کے بے صداے سن سکوں ،
مجھے وداع کر، مجھے وداع کر،

بہت ہے دیر دیر جیسی دیر ہو چکی ،
کہ اب گھڑی میں بیسویں صدی کی رات بج چکی،
مجھے وداع کر، مجھے وداع کر،

کہ اپنے آپ میں اتنے خواب جی چکا،
کہ حوصلہ نہیں، کہ حوصلہ نہیں،

میں اتنی بار اپنے زخم آپ سی چکا،
کہ حوصلہ نہیں، کہ حوصلہ نہیں!

صحرا میں پھوار


ٹیلے پہ تنہا ،
صحرا کا حصہ لگتی تھی ،
کیا جلتے صحرا میں گھنی پھوار دیکھی ہے ،
بنا سوچے بولا کرتی تھی ،
سوچے سوچے کھلکھلاتی تھی ،
پھوار صحرا بگھونے لگتی تھی ،
خزاں میں بہار کھلتی دیکھی ہے ،
یہی موسم ہر پل اوڑھے رکھتی تھی ،
ہتھیلی پہ چہرہ ٹکا ے ٹیلے پہ بیٹھا کرتی تھی !