اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب


اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی ،دل پر
زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب
خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر
آج کی شب
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب
کم نظر دیکھ ہوا کی آہٹ
کس کی خوشبو میں بسی آتی ہے
کون سا عکس ہے جس کی خاطر
آنکھ آئینہ بنی جاتی ہے!
کس طرح چاند اچانک جھک کر
سرد شاخوں سے لپٹ جاتا ہے
کس طرح رنگِ چمن
ایک چہرے میں سمٹ جاتا ہے
سیلِ امواجِ تمنّا کیسے
ساحلِ دل سے پلٹ جاتا ہے
اور کس طور سے طے ہوتا ہے
لڑکھڑاتے ہوئے تاروں کا سفر آج کی شب
بے ہنر! آج کی شب
مجھ کو جی بھر کے اُسے یاد تو کر لینے دے
دولت ِ درد سہی جیب تو بھر لینے دے!!

(امجد اسلام امجد)

Advertisements

From the page of Mustansar Hussain Tarar


اسنے کہا کہ کونسا تحفہ ہے من پسند

میں نے کہا وہ شام جو اب تک ادھار ہے !

Tum mere he rehna!


تو بھول گیا ، ہے یاد میری،
وہ پیار تیرا ، فریاد میری،
تو انے والا کل، یا بیتا ہواہے پل،
ہر سانس ادھوری ہے ، ہر لمحہ یہ دوری ہے!

تیری بانھوں سے جو ناتا ہے، ٹوٹے نہ کبھی وہ دھاگہ ہے،
تیری خاموشی کا ، جانے کیا ارادہ ہے،
امید کی گلیوں میں، عاشق یہ اوارہ ہے !

http://youtu.be/Iw-gKLicdgY

وہ مر گی!


ایک لڑکی تھی ،
جو خواب سجانے بیٹھتی تو ،
دن سے رات ہو جاتی تھی،
پھر یوں ہوا ،
ایک دن صبح ہو گی،
وہ لڑکی جو خواب سجاتی تھی،
وہ مر گی!

Sahil


ساحل پہ کھڑے ہو،
تمہے کیا غم ، چلے جانا،
میں ڈوب رہا ہوں،
ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں !

بارش


کبھی یوں بھی ہوتا ہو ،
برستی تیز بارش میں ،
تپش کچھ یوں بڑھ جاتی ہے ،
آنسو یوں پگھلتے ہیں ،
وجود زر سسکتا ہو ،
بارش کا ہر قطرہ روح کو مسمار کرتا ہو…

یاد نہ آیا کریں


ان یادوں سے کہو یاد نہ آیا کریں,
جو ادھوری سانسیں ہیں ,
وہ آنسوؤں سے پیوستہ ہیں,
تمہے  کیا خبر کیسے جیتے ہیں کیسے ہنسا کرتے ہیں,
کچھ لمحے ادھار  دو,
بس اتنا احساں  کر دو ,
ان ادھار  لمحوں میں ,
یادوں سے کہو یاد نہ آیا کریں,

ہر لفظ تمسے جڑا  ہے ,
ہر لمحہ وہ ہر ورق دوہراتا ہے ,
جو تمسے وابستہ ہے,
ذہن کے افق پر وہ ہر نقش سبط ہے ,
جو تمہاری  یاد کی  بازگشت کو بار بار دوہراتا ہے,
سنو,
پھر یوں کردو,
یادوں سے کہو یاد نہ آیا کریں!